MOJ E SUKHAN

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے
پھر یوں ہوا کہ لوگ ہمیں تولنے لگے

آہستہ بات کر کہ ہوا تیز ہے بہت
ایسا نہ ہو کہ سارا نگر بولنے لگے

عمر رواں کو پار کیا تم نے اور ہم
رسی کے پل پہ پاؤں رکھا ڈولنے لگے

دستک ہوا ہی دے کہ یہ بندش تمام ہو
سونے گھروں میں کوئی تو رس گھولنے لگے

میں بن گیا گہر تو مرا اس میں دوش کیا
بے وجہ مجھ کو خاک میں تم رولنے لگے

وزیر آغا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم