MOJ E SUKHAN

جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں

جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں
ایسی خوشبو کہاں ہے رات کی رانی میں

ابھرا تھا آنکھوں میں ایک سنہرا خواب
جاتے جاتے دے گیا زخم نشانی میں

رات گئے تک یوں ہی تنہا ساحل پر
گھومتے رہنا پاؤں پاؤں پانی میں

اترا جو اس دل میں قافلہ الفت کا
کیسی کیسی غزلیں ہوئیں روانی میں

کیوں بے رنگ کیا ہے میری اوڑھنی کو
تیرے غم کی دھوپ نے بھری جوانی میں

کب سے اپنا بچپن ڈھونڈھتی پھرتی ہے
بیناؔ تیری بکھری ہوئی کہانی میں

بینا گوئندی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم