MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمنا بن گئی ہے مایۂ الزام کیا ہوگا

تمنا بن گئی ہے مایۂ الزام کیا ہوگا
مگر دل ہے ابھی تک تشنۂ پیغام کیا ہوگا

وہ بیتاب تماشہ ہی سہی اے تاب نظارہ
لرز اٹھتا ہے دل یہ سوچ کر انجام کیا ہوگا

یہاں جو کچھ بھی ہے وہ پرتو احساس ہے ساقی
بجز بادہ جواب گردش ایام کیا ہوگا

کبھی جس کے یقیں سے کائنات عشق روشن تھی
وہی اب ہے اسیر حلقۂ اوہام کیا ہوگا

جنون شوق کا عالم ہمہ مستی سہی لیکن
یہ عالم بھی جواب شوخی پیغام کیا ہوگا

چلے تو ہو مزاج یار کی پرسش کو اے بیکلؔ
مگر یہ سوچ لو انداز استفہام کیا ہوگا

بیکل اتساہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم