MOJ E SUKHAN

پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائی

پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائی
اب لکھیں گے کتاب تنہائی

وصل کی شب تمام ہوتے ہی
آ گیا آفتاب تنہائی

خامشی وحشتیں اداسی ہے
کھل رہے ہیں گلاب تنہائی

اس کی یادوں کے گھر میں جاتے ہی
کھل گیا ہم پہ باب تنہائی

وصل کی شب تمہارے پہلو میں
لے رہا ہوں ثواب تنہائی

کس کو بتلائیں کون سمجھے گا
کیسے جھیلے عذاب تنہائی

دوستوں سے گریز کرتا ہوں
ہو رہا ہوں خراب تنہائی

یشب تمنا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم