MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں جب چھوٹا سا تھا کاغذ پہ یہ منظر بناتا تھا

میں جب چھوٹا سا تھا کاغذ پہ یہ منظر بناتا تھا
کھجوروں کے درختوں کے تلے اک گھر بناتا تھا

میں آنکھیں بند کر کے سوچتا رہتا تھا پہروں تک
خیالوں میں بہت نازک سا اک پیکر بناتا تھا

میں اکثر آسماں کے چاند تارے توڑ لاتا تھا
اور اک ننھی سی گڑیا کے لیے زیور بناتا تھا

اڑا کر روز لے جاتی تھیں موجیں میرے خوابوں کو
مگر میں بھی گھروندے روز ساحل پر بناتا تھا

مری بستی میں میرے خون کے پیاسے تھے سب لیکن
نہ میں تلوار گڑھتا تھا نہ میں خنجر بناتا تھا

ہدایت کار اس دنیا کے ناٹک میں مجھے والیؔ
کبھی ہیرو بناتا تھا کبھی جوکر بناتا تھا

والی آسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم