MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وحشتوں کو بھی اب کمال کہاں

وحشتوں کو بھی اب کمال کہاں
اب جنوں کار بے مثال کہاں

خود سے بھی مانگتی نہیں خود کو
تجھ سے پھر خواہش سوال کہاں

میرے ہم رنگ پیرہن پہنے
شام ایسی شکستہ حال کہاں

صبح کی بھیڑ میں کہوں کس سے
ہو گئی رات پائمال کہاں

میری سب حالتوں کو جان سکے
کوئی ایسا شریک حال کہاں

تیرے خوابوں کے بعد آنکھوں میں
ہو سکے روشنی بحال کہاں

بے ارادہ جو بخش دی تو نے
اس خوشی کا تجھے خیال کہاں

ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں تھک بھی گئی
کھو گئے میرے ماہ و سال کہاں

شاہدہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم