MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرا

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرا
میری آغوش میں بجھتا ہوا مہتاب گرا

پھر سمندر کی طرف لوٹ چلی موج بہ موج
پھر کوئی تشنہ دہن آ کے سر آب گرا

عکس مسمار نہ کر دیدۂ حیراں کے سرشک
میرے خوابوں کے در و بام نہ سیلاب گرا

ڈھونڈ سیپی کی طرح دل کو نہ ساحل کے قریب
یہ صدف دور بہت دور تہہ آب گرا

آہن و سنگ کو زہراب فنا چاٹ گیا
پہلے دیوار شکستہ ہوئی پھر باب گرا

عظیم حیدر سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم