MOJ E SUKHAN

چاندنی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

چاندنی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے
لب پہ اک بات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

جھوم کر آج یہ شب رنگ لٹیں بکھرا دے
دیکھ برسات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

دل مجروح کی اجڑی ہوئی خاموشی سے
بوئے نغمات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد
آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

آہ تسکین بھی اب سیفؔ شب ہجراں میں
اکثر اوقات بڑی دیر کے بعد آئی ہے
سیف الدین سیف​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم