MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ
شور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ

سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکے
مجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ

اک تری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہی
اک ترا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ

کبھی زخموں کا بھی خندۂ گل کا موسم
ہم پہ کھلتا رہا اک درد کی تفسیر کے ساتھ

بات آپس کی ہے آپس ہی میں رہنے دیجے
ورنہ ہم سرخیاں بن جائیں گے تشہیر کے ساتھ

آپ کی میز پہ پھر ایک نیا منظر ہے
میری تصویر بھی ہے آپ کی تصویر کے ساتھ

دل کے نزدیک سر شام الم اے نیرؔ
زخم کے چاند چمک اٹھتے ہیں تنویر کے ساتھ

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم