MOJ E SUKHAN

حیران ہوں کہ آج یہ کیا حادثہ ہوا

حیران ہوں کہ آج یہ کیا حادثہ ہوا
ہے آگ سرد دل بھی ہے میرا بجھا ہوا

منزل پہ پہلے میری رسائی ہوئی تو پھر
ہر نقش پا سے آگے مرا نقش پا ہوا

ریکھائیں ہاتھ کی تو سوا جاگتی رہیں
اے کاش میرا بخت رہے جاگتا ہوا

تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئی
جو شخص تھا ٹرین کے نیچے کٹا ہوا

نیرؔ کہانی یاد ہے پریوں کے دیش کی
میں اس طلسم سے نہ ابھی تک رہا ہوا

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم