MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیتا تھا جو سایا وہ شجر کاٹ رہا ہے

دیتا تھا جو سایا وہ شجر کاٹ رہا ہے
خود اپنے تحفظ کی وہ جڑ کاٹ رہا ہے

بے سمت اڑانوں سے پشیماں پرندہ
اب اپنی ہی منقار سے پر کاٹ رہا ہے

محبوس ہوں غاروں میں مگر آذر تخیئل
چٹانوں میں اشکال ہنر کاٹ رہا ہے

اک ضرب مسلسل ہے کہ رکتی ہی نہیں ہے
ہر تار نفس درد جگر کاٹ رہا ہے

ہے کون کمیں گاہ میں یہ کیسے بتاؤں
ہر تیر مگر میرے ہی پر کاٹ رہا ہے

امید اجالے کا لیے تیشہ ہر اک دل
ہر رات بہ انداز سحر کاٹ رہا ہے

کرتا ہے فزوں وحشت دل دشت کا موسم
بلقیسؔ مگر کیا کروں گھر کاٹ رہا ہے

بلقیس ظفیر الحسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم