MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک
وسعت مری دیکھو تو ہے دیوار ابد تک

ماحول میں سب گھولتے ہیں اپنی سیاہی
رخ ایک ہی تصویر کے ہیں نیک سے بد تک

کچھ فاصلے ایسے ہیں جو طے ہو نہیں سکتے
جو لوگ کہ بھٹکے ہیں وہ بھٹکیں گے ابد تک

کب تک کوئی کرتا پھرے کرنوں کی گدائی
ظلمت کی کڑی دھوپ تو ڈستی ہے ابد تک

یوں روٹھے مقدر کہ کوئی کام نہ بن پائے
یوں ٹوٹے سہارا کوئی پہنچے نہ مدد تک

اب بھی ترے نزدیک موحد نہیں فارغؔ
اقرار کیا ہے ترا انکار کی حد تک

فارغ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم