MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے
یہی بہت ہے کہ آنکھوں میں کچھ نمی آئے

اندھیری رات میں کاسہ بدست بیٹھا ہوں
نہیں یہ آس کہ آنکھوں میں روشنی آئے

ملے وہ ہم سے مگر جیسے غیر ملتے ہیں
وہ آئے دل میں مگر جیسے اجنبی آئے

خود اپنے حال پہ روتی رہی ہے یہ دنیا
ہمارے حال پہ دنیا کو کیوں ہنسی آئے

نہ جانے کتنے زمانوں سے ہم بہکتے ہیں
فقیہ بہکے تو کچھ لطف مے کشی آئے

صلیب و دار کے قصے بہت پرانے ہیں
صلیب و دار تو ہم راہ زندگی آئے

ہری نہ ہو نہ سہی شاخ نخل غم کی اریبؔ
ہمارے گریۂ پیہم میں کیوں کمی آئے

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم