MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی
اس قدر الجھن میں پہلے زندگی دیکھی نہ تھی

یہ تماشا بھی عجب ہے ان کے اٹھ جانے کے بعد
میں نے دن میں اس سے پہلے تیرگی دیکھی نہ تھی

آپ کیا آئے کہ رخصت سب اندھیرے ہو گئے
اس قدر گھر میں کبھی بھی روشنی دیکھی نہ تھی

آپ سے آنکھیں ملی تھیں پھر نہ جانے کیا ہوا
لوگ کہتے ہیں کہ ایسی بے خودی دیکھی نہ تھی

مجھ کو رخصت کر رہے ہیں وہ عجب انداز سے
آنکھ میں آنسو لبوں پر یہ ہنسی دیکھی نہ تھی

کس قدر خوش ہوں میں ناصرؔ ان کو پا لینے کے بعد
ایسا لگتا ہے کبھی ایسی خوشی دیکھی نہ تھی

حکیم ناصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم