Jo Mery Sath tha abh mery sath hay hi nahi
غزل
جو میرے ساتھ تھا اب میرے ساتھ ہے ہی نہیں
سو اپنے آپ سے اب بات وات ہے ہی نہیں
پناہ میں رہوں زلفِ سیاہ فام کی میں
مرے نصیب میں شاید وہ رات ہے ہی نہیں
کسی کو اونچا سمجھنا کسی سے دب جانا
مرے مزاج میں شامل یہ بات ہے ہی نہیں
رقیب کون عداوت ہے کیا عدو کیسا
میں ایسا سوچوں مری یہ بساط ہے ہی نہیں
ہوا ہے ہاتھ مرے ساتھ کیا کہوں کیونکہ
دکھائی جو مجھے وہ کائنات ہے ہی نہیں
چلا تھا جس کے بھروسے پہ دشت و صحرا میں
پتہ چلا وہ حقیقت میں ذات ہے ہی نہیں
گو لاکھ تیر چلائے نظر کے مجھ پہ غنیم
مجھے جو زیر کرے ایسی گھات ہے ہی نہیں
نظر فاطمی
Nazar fatmi