MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مل بھی جاتا جو آب آب بقا کیا کرتے

مل بھی جاتا جو آب آب بقا کیا کرتے
زندگی خود بھی تھی جینے کی سزا کیا کرتے

سرحدیں وہ نہ سہی اپنی حدوں سے باہر
جو بھی ممکن تھا کیا اس کے سوا کیا کرتے

ہم سرابوں میں سدا پھول کھلاتے گزرے
یہ بھی تھا آبلہ پائی کا صلا کیا کرتے

جس کو موہوم لکیروں کا مرقع کہیے
لوح دل پر تھا یہی نقش وفا کیا کرتے

اب وہ شالوں کا قفس ہو کہ لہو کی خوشبو
دل پہ لہراتی رہی برق ادا کیا کرتے

مانگنے کو تو یہاں اپنے سوا کچھ بھی نہ تھا
لب پہ آتا بھی اگر حرف دعا کیا کرتے

ہم کو خود عرض تمنا کا سلیقہ بھی نہ تھا
وہ بھی تنویرؔ بھلا عذر جفا کیا کرتے

تنویر احمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم