MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کے بھولے ہوئے افسانے بہت یاد آئے

دل کے بھولے ہوئے افسانے بہت یاد آئے
زندگی تیرے صنم خانے بہت یاد آئے

کوزۂ دل کی طرح پہلے انہیں توڑ دیا
اب وہ ٹوٹے ہوئے پیمانے بہت یاد آئے

وہ جو غیروں کی صلیبوں کو اٹھا لائے تھے
خود مسیحا کو وہ دیوانے بہت یاد آئے

جسم و جاں کے یہ صنم زاد الٰہی توبہ
دل کے اجڑے ہوئے بت خانے بہت یاد آئے

موت کا رقص ہے افسردگیٔ جاں کا علاج
جل بجھی شمع تو پروانے بہت یاد آئے

دل کے زخموں کے بھلا کس کو میسر ہیں چراغ
اشک در اشک وہ نذرانے بہت یاد آئے

دیکھ کر شہر خرد کی یہ کشاکش تنویرؔ
دشت احساس کے ویرانے بہت یاد آئے

تنویر احمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم