آبلہ پائی میں ، خس میں خار میں ردوبدل
کچھ تو ہو اب دشت کے آزار میں رد و بدل
میں بہادر تھا مجھے نیچا دکھانے کے لئے
ساتھیوں نے کی مری تلوار میں ردوبدل
اک قبیلہ ہے ازل سے جان دینے کے لئے
ہوتی رہتی ہے صلیب و دار میں ردوبدل
غیر ممکن ہے کہ ہو برسات دیپک چھیڑ کر
آگ کے لگنے کو ہو ملہار میں ردوبدل
کاش مل جائے سہولت گھر میں صحرا کی مجھے
کوئی کردے یوں درودیوار میں ردوبدل
آرھے ہیں وه چمن میں چہل قدمی کے لئے
ہو رہی ہے باغ کی مہکار میں ردوبدل
آ نہیں سکتی تمہارے پیار میں کوئی کمی
ہو نہیں سکتی دل _بیکار میں ردوبدل
لا تعلق سا رہا وه آرسی مصحف کے وقت
اس طرح کردی گئی زنگار میں ردوبدل
یوں تو الفاظ _غزل ہیں ایک سے غالب کے بعد
ہم نے کی مقبول، پر دو چار میں ردوبدل
مقبول زیدی