MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی کا دل تو کسی کا دھیان رکھتے ہوئے

غزل

کسی کا دل تو کسی کا دھیان رکھتے ہوئے
میں مٹ رہا ہوں محبت کا مان رکھتے ہوئے

مچا رہی ہے بہت شور میری تنہائی
ادھر میں چپ ہوں یہ دیکھو زبان رکھتے ہوئے

شکست کھاتے ہوئے کیسے دیکھتا اس کو
شکست کھا گیا تیرو کمان رکھتے ہوئے

قلم کی نوک پہ ٹھہری ہوئی ہیں وہ چیخیں
جنہیں سنا ہی نہیں دل نے کان رکھتے ہوئے

جسے بھی چلنا سکھایا وہ میرے رستے میں
گیا تو درد کا اک امتحان رکھتے ہوئے

تماشا بن نہ سکا اس لیے محبت میں
ملا تھا فاصلہ جو درمیان رکھتے ہوئے

وہ اپنی سوچ کے صحرا کرے نہ کیوں آباد
جو محوِ رقص ہے غم کا جہان رکھتے ہوئے

وہ زندگی کو جیے تو بھلا جیے کیسے
یہاں جو تنہا ہے اک خاندان رکھتے ہوئے

سزا سنائی ہے اس بار بھی محبت نے
مری ہتھیلی پہ غم الامان رکھتے ہوئے

کیا ہے موجِ نسیمی کو شاملِ اردو
یقینِ دل کو میاں ترجمان رکھتے ہوئے

نسیم شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم