MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا

غزل

کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا
اپنا ہی پتا نہ ہم نے پایا

دل کس کے جمال میں ہوا گم
اکثر یہ خیال ہی نہ آیا

ہم تو ترے ذکر کا ہوئے جزو
تو نے ہمیں کس طرح بھلایا

اے دوست تری نظر سے میرا
ایوان نگاہ جگ مسکایا

خورشید اسی کو ہم نے جانا
جو ذرہ زمیں پہ مسکرایا

مقصود تھی تازگی چمن کی
ہم نے رگ جاں سے خوں بہایا

افتاد ہے سب کی اپنی اپنی
کس نے ہے کسی کا غم بٹایا

محرومئ جاوداں ہے اور میں
میں ذوق طلب سے باز آیا

ہر غم پہ ہے میرے نام کی مہر
فطرتؔ کوئی غم نہیں پرایا

عبد االعزیز فطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم