MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نظر میں حسن کا طوفاں سما نہیں سکتا

غزل

نظر میں حسن کا طوفاں سما نہیں سکتا
میں اپنے خواب سے دامن چھڑا نہیں سکتا

نگار رقص میں ہے اور بہار زوروں پر
مگر غریب کا دل مسکرا نہیں سکتا

مجھے ہے اپنے مقدر پہ اتنی ہی قدرت
بگاڑ سکتا ہوں اس کو بنا نہیں سکتا

بہت عزیز ہے مجھ کو متاع عجز و خلوص
نہیں نہیں میں یہ دولت لٹا نہیں سکتا

خلوص اہل ریا سے نہ برتا جائے گا
بہ عجز سب سے تو میں پیش آ نہیں سکتا

عبدالعزیز فطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم