غزل
نظر میں حسن کا طوفاں سما نہیں سکتا
میں اپنے خواب سے دامن چھڑا نہیں سکتا
نگار رقص میں ہے اور بہار زوروں پر
مگر غریب کا دل مسکرا نہیں سکتا
مجھے ہے اپنے مقدر پہ اتنی ہی قدرت
بگاڑ سکتا ہوں اس کو بنا نہیں سکتا
بہت عزیز ہے مجھ کو متاع عجز و خلوص
نہیں نہیں میں یہ دولت لٹا نہیں سکتا
خلوص اہل ریا سے نہ برتا جائے گا
بہ عجز سب سے تو میں پیش آ نہیں سکتا
عبدالعزیز فطرت