MOJ E SUKHAN

دعا کی راکھ پہ مرمر کا عطرداں اس کا

غزل

دعا کی راکھ پہ مرمر کا عطرداں اس کا
گزیدگی کے لیے دست مہرباں اس کا

گہن کے روز وہ داغی ہوئی جبیں اس کی
شب شکست وہی جسم بے اماں اس کا

کمند غیر میں سب اسپ و گوسفند اس کے
نشیب خاک میں خفتہ ستارہ داں اس کا

تنور یخ میں ٹھٹھرتے ہیں خواب و خوں اس کے
لکھا ہے نام سر لوح رفتگاں اس کا

چنی ہوئی ہیں تہہ خشت انگلیاں اس کی
کھلا ہوا ہے پس ریگ بادباں اس کا

وہ اک چراغ ہے دیوار خستگی پہ رکا
ہوا ہو تیز تو ہر حال میں زیاں اس کا

اسی سے دھوپ ہے انبار دھند ہے روپوش
گرفت خواب سے برسر ہے کارواں اس کا

افضال احمد سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم