MOJ E SUKHAN

تاک تازہ پر ادائے تازہ تر رکھ دیجیے

غزل

تاک تازہ پر ادائے تازہ تر رکھ دیجیے
کچھ نہ کچھ بخشش صبا کے ہاتھ پر رکھ دیجیے

دیجیے مت گفتگو کی راہ اس بے راہ کو
ان کہی کی تیغ عریاں پر سپر رکھ دیجیے

کانپنے لگتا ہے اس لاچار کا نیلا بدن
شب کے زانو پر اگر گھبرا کے سر رکھ دیجیے

عالم گیتی کی بے لطفی سے گھبرائے نہ دل
چاہیے تو اک تماشائی دگر رکھ دیجیے

لمحۂ موجود کا دکھ بانٹنے کو دو گھڑی
کھول کر سب پیر سے لپٹے سفر رکھ دیجیے

کاوش نو دیکھیے اور کاسۂ امید میں
اک نظر اور ایک حرف معتبر رکھ دیجیے

مو قلم رکھ دیجیے پانی کی موجوں پر عبیرؔ
آب جو پر اک بنائے مستقر رکھ دیجیے

عبیرہ احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم