MOJ E SUKHAN

پڑے ہیں راہ میں جو لوگ بے سبب کب سے

غزل

پڑے ہیں راہ میں جو لوگ بے سبب کب سے
پکارتی ہے انہیں منزل طلب کب سے

یہ اور بات مکینوں کو کچھ خبر نہ ہوئی
لگا رہے تھے محافظ مگر نقب کب سے

کوئی بھی حربۂ تشہیر کارگر نہ ہوا
تماشبیں ہی رہی شہرت ادب کب سے

اکھڑ گئی ہیں طنابیں ستم کے خیموں کی
الٹ گئی ہے بساط حسب نسب کب سے

نہ حوصلہ ہے دعا کا نہ آہ پر ہے یقیں
کہ ہم سے روٹھ گیا ہے ہمارا رب کب سے

سمندروں سے کوئی موج سر بلند اٹھے
کہ ساحلوں پہ تڑپتے ہیں جاں بہ لب کب سے

وہ ہم نے چن دیے تنقید کی صلیبوں پر
مچل رہے تھے جو کچھ حرف زیر لب کب سے

بخش لائلپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم