MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عذاب ہجر سے انجان تھوڑی ہوتا ہے

غزل

عذاب ہجر سے انجان تھوڑی ہوتا ہے
یہ دل اب اتنا بھی نادان تھوڑی ہوتا ہے

یہ زندگی ہے بہت کچھ یہاں پہ ممکن ہے
کہ کچھ نہ ہونے کا امکان تھوڑی ہوتا ہے

یہ دل کے زخم چھپا کر جو مسکراتے ہیں
تو میرے دوست یہ آسان تھوڑی ہوتا ہے

کبھی کبھار تو بدعت بھی ہو ہی جاتی ہے
ہر ایک لمحہ ترا دھیان تھوڑی ہوتا ہے

وہ جس کے پاس محبت بھی ہو، وفا بھی ہو
بھلا وہ بے سر و سامان تھوڑی ہوتا ہے

تری وفا میں کمی کچھ تو آئی ہے کہ یہ دل
بلا جواز پریشان تھوڑی ہوتا ہے

ادھر ادھر سے دلیلیں اٹھانی پڑ جائیں
جو اتنا کچا ہو، ایمان تھوڑی ہوتا ہے

ناہید ورک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم