MOJ E SUKHAN

صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ

غزل

صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ
دروں کا شور مری خامشی سے شرمندہ

کہو تو آج ذرا سا سنوار لوں خود کو
کہ آئنے ہیں مری سادگی سے شرمندہ

عجیب دوہری عزت کا سامنا ہے انہیں
کوئی کسی سے تو کوئی کسی سے شرمندہ

ہمارے ہاتھ جو دستک نہ دے سکے در پر
ہمارے ہاتھ رہے اس کجی سے شرمندہ

ہم اپنی خاک جہاں میں اڑائے پھرتے ہیں
اے شہر یار تمہاری گلی سے شرمندہ

ہم اس صدی میں بھی منزل سے آشنا نہ ہوئے
یہ اور بات ہے پچھلی صدی سے شرمندہ

ہے میرے پاس یہ لکنت زدہ زباں شاہدؔ
اے خوش کلام تری نغمگی سے شرمندہ

افتخار شاہد ابو سعد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم