MOJ E SUKHAN

جل کر جس نے جل کو دیکھا

غزل

جل کر جس نے جل کو دیکھا
تم نے اس پاگل کو دیکھا

خواب دیے اور آئینے میں
آنے والے کل کو دیکھا

وقت کے سب سے اونچے پل سے
آتے جاتے پل کو دیکھا

خواہش کے چنگل سے آگے
حیرت کے جنگل کو دیکھا

صحرا میں اک کرسی دیکھی
کرسی پر سچل کو دیکھا

دیکھیں تشنہ لب کی آنکھیں
آنکھوں کے جل تھل کو دیکھا

بادل جب دریا پر برسا
دریا نے بادل کو دیکھا

موسم نے جب کروٹ بدلی
چادر نے کمبل کو دیکھا

آنکھوں کی گہرائی جانی
پیشانی کے بل کو دیکھا

دلدل کے سبزے سے گزرے
سبزے کے دلدل کو دیکھا

ماضی کے ہر پیڑ پہ ہم نے
مستقبل کے پھل کو دیکھا

لکھنے والو ہاتھ اٹھا لو
کس کس نے مقتل کو دیکھا

تم نے ضدی دیکھے ہوں گے
دل جیسے اڑیل کو دیکھا

مشکل کتنی مشکل میں تھی
مشکل نے جب حل کو دیکھا

کھرچ کھرچ کر شک نے کھدر
مل مل کر ململ کو دیکھا

دریا پیر آباد میں کس نے
شالو اور شل شل کو دیکھا

قینچی جب ڈم ڈم پر جھپٹی
کیکر نے پیپل کو دیکھا

بالٹی گیلن تسلے دیکھے
اور پھر میں نے نل کو دیکھا

دریا کی لہریں گن گن کے
پانی کی بوتل کو دیکھا

حیرم دیو نے سونا کھا کر
چاندی اور پیتل کو دیکھا

دیکھا کیا کیا دیکھ رہا ہے
غور سے جب گوگل کو دیکھا

چینل پر خبریں تو دیکھیں
خبروں کے چینل کو دیکھا

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم