غزل
سکوت انتشار ہو گیا اگر
وجود بھی فرار ہو گیا اگر
لڑائ گر پہنچ گئ گھروں میں تو
محاذ رہگزار ہو گیا اگر
کسی کو ہم کلام نقد بیچ دیں
پہ عشق مستعار ہو گیا اگر
چراغ وہ جلائے تو نظر کھلے
چراغ بھی فرار ہو گیا اگر
یہ سوچ کے ہی انقلاب لائیے
یہ انقلاب دار ہو گیا اگر
برائے اشتہا گناہ کر تو لوں
خفا خیالِ یار ہو گیا اگر
دلیل کے خلاف مت جواز دیں
ثبوت تار تار ہو گیا اگر
طلب کو اتنی وسعتیں نہ دیجیئے
جنون بے شمار ہو گیا اگر
گیا ہے دل تو دل بغیر ہی رہیں
دماغ بھی فرار ہو گیا اگر
گناہ کا جواز مت بنائیے
گناہ بار بار ہو گیا اگر
یہ لیجئیے، محاذ بند کر دیا
ادھر سے کوئ وار ہو گیا اگر
میں کس کمائ سے ادا کروں گا قرض
جو رزق بھی ادھار ہو گیا اگر
محسن اسرار