MOJ E SUKHAN

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا

غزل

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا
مگر کوئی بہانہ چاہیے تھا

محبت ریل کی پٹری نہیں تھی
کہیں تو موڑ آنا چاہیے تھا

ترے کاندھے پہ رکھ کر سر کسی دن
ہمیں بھی بھول جانا چاہیے تھا

مری لغزش خدا سے کیوں شکایت
ارے مجھ کو بتانا چاہیے تھا

یہ تم نے خود کو پتھر کر لیا کیوں
مری جاں ٹوٹ جانا چاہیے تھا

ہمی کیا توڑتے ساری خموشی
تمہیں بھی گنگنانا چاہیے تھا

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم