غزل
جو شہر وحشت میں جا بسا ہو وہ کیا سکون و قرار لکھے
کسے ہے یہ حوصلہ کہ بکھرے تو کرچیوں کا شمار لکھے
کبھی سنائی نہیں کسی کو بھی داستان دل دریدہ
بہت قرینے سے زخم لکھے بہت سلیقے سے خار لکھے
بہت سہولت سے چپ کو لکھا لکھا ہے حسرت سے گفتگو کو
وہ جو گماں تھے کوئی نہ لکھے یقیں کے پہلو ہزار لکھے
رفاقتوں کے نگر میں دیکھا اکیلا پن تھا محیط ہر سو
طلب کسی کو نہیں کسی کی نہ اب کوئی غم گسار لکھے
سفر ہے لازم تو کیوں ہو ماتم یہ رائیگانی کا ذکر کیسا
جو میرے رستے کے پیچ و خم تھے وہ رہ گزر کا غبار لکھے
کسی کہانی میں رنج لکھا کسی غزل میں ہے ضبط گریہ
کبھی سنورنے کی بات کی ہے کہیں فقط اضطرار لکھے
حجابؔ کہنا یہ اس سے جا کر کسی کو تیرا جنوں نہیں ہے
کسی کو عجلت نہیں ہے کوئی سکون سے انتظار لکھے
یہ دل اہم ہے چلو یہ مانا مگر سنو یہ انا بھی کچھ ہے
تو یہ بھی اس سے حجابؔ کہنا کبھی نہ خود بیقرار لکھے
حجاب عباسی