MOJ E SUKHAN

خموش رہ کے زوال سخن کا غم کئے جائیں

غزل

خموش رہ کے زوال سخن کا غم کئے جائیں
سوال یہ ہے کہ یوں کتنی دیر ہم کئے جائیں

یہ نقش گر کے لیے سہل بھی نہ ہو شاید
کہ ہم سے اور بھی اس خاک پر رقم کئے جائیں

کئی گزشتہ زمانے کئی شکستہ نجوم
جو دسترس میں ہیں لفظوں میں کیسے ضم کئے جائیں

یہ گوشوارے زباں کے بہت سنبھال چکے
سو شعر کاٹ دیے جائیں خواب کم کئے جائیں

تیرا خیال بھی آئے تو کتنی دیر تلک
کئی غزال مرے دشت دل میں رم کئے جائیں

میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں مگر اے دوست
میں چاہتا ہوں کہ وہ خواب پھر بہم کئے جائیں

حساب دل کا رکھیں ہم کہ دہر کا بابرؔ
شمار داغ کئے جائیں یا درم کئے جائیں

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم