MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پس دیوار بھی دیوار اٹھائے ہوئے ہیں

غزل

پس دیوار بھی دیوار اٹھائے ہوئے ہیں
میرے ساتھی مرے لاشے کو چھپائے ہوئے ہیں

کس سے پوچھوں کہ مرے نام کی تختی ہے کہاں
میرے سینے میں تو ویرانے سمائے ہوئے ہیں

ان سے کہہ دو جو مکیں ہیں مرے گھر میں کہ مجھے
لوگ پھر بیچنے بازار میں لائے ہوئے ہیں

ظلمتیں ان کا اجارہ ہیں چلو یوں ہی سہی
ہم بھی لو دل کے چراغوں کی بڑھائے ہوئے ہیں

آسماں پر نہ ستارے نہ زمیں پر جگنو
کون پھر ماتھوں پہ کرنیں سی سجائے ہوئے ہیں

ہم تو پت جھڑ کی صدا ہیں ہمیں دیکھو نہ سنو
ہم کو سوچو کہ بہاروں کو سجائے ہوئے ہیں

ریت پر میں بھی گھروندا لیے بیٹھا ہوں متینؔ
وہ بھی ہر قطرۂ بارش میں سمائے ہوئے ہیں

اقبال متین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم