MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرا طرز بیان شوق بیباکانہ ہوتا ہے

غزل

مرا طرز بیان شوق بیباکانہ ہوتا ہے
عمل جو رند سے ہوتا ہے وہ رندانہ ہوتا ہے

مری روداد میں مضمر ہے حال زندگی تیرا
بیان عشق گویا حسن کا افسانہ ہوتا ہے

نہیں ملتی ہے دم لینے کی مہلت شمع محفل کو
ادھر پروانہ ہوتا ہے ادھر پروانہ ہوتا ہے

حریف نرگس مستانہ کیا کوئی تمہارا ہو
جسے دیوانہ تم کرتے ہو وہ دیوانہ ہوتا ہے

کبھی رندان محفل بے پیے مخمور ہوتے ہیں
کبھی یہ خاص فیض نرگس مستانہ ہوتا ہے

جب ان سے زعم خودداری میں کھنچ جاتا ہوں کہتی ہیں
یہ طرز میرزایانہ تو معشوقانہ ہوتا ہے

جب ابر میکدہ بر دوش صحن باغ میں آئے
اسی کو کہتے ہیں فرزانہ جو دیوانہ ہوتا ہے

جناب واعظ رنگیں بیاں سے کوئی یہ پوچھے
کہ کیوں ہر وعظ میں ذکر مئے و پیمانہ ہوتا ہے

میں کہنے کو تو اپنی داستان عشق کہتا ہوں
مگر منہ سے نکل کر حسن کا افسانہ ہوتا ہے

مے امید سے بھر لیتا ہوں عاجز نہیں ہوتا
تہی دستی میں جب خالی مرا پیمانہ ہوتا ہے

بڑھا دیتا ہوں میں خود ہاتھ رکتا ہے اگر ساقی
مرا ہر فعل بزم مے میں بے باکانہ ہوتا ہے

ابھی جو راز ہے پنہاں عیاں ہو جائے گا اک دن
کہ افسون محبت ہی تو پھر افسانہ ہوتا ہے

رہی قید مکاں سے مے کشی آزاد بیدلؔ کی
جہاں وہ بیٹھ جاتا ہے وہی مے خانہ ہوتا ہے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم