MOJ E SUKHAN

پاس ہونے کا اشارا مل گیا

غزل

پاس ہونے کا اشارا مل گیا
اب تو جینے کا سہارا مل گیا

ڈھل گیا سورج تو کچھ ایسا لگا
صبح نو کا اک نظارا مل گیا

تم ملے تو مل گئی ہے زندگی
مرتے مرتے بھی سہارا مل گیا

نا امیدی کو ملی امید اک
اک سہارا جب تمہارا مل گیا

ڈوبنے والی تھی کشتی جان کی
اب تو ساحل کا کنارا مل گیا

یہ زمین و آسماں کیا ہیں صباؔ
جب جہان عشق سارا مل گیا

ببلس ھورہ صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم