MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی ہمدرد نہیں کوئی بھی دم ساز نہیں

غزل

کوئی ہمدرد نہیں کوئی بھی دم ساز نہیں
اب تو اس بزم میں میری کوئی آواز نہیں

نغمہ کیسا کہ لبوں پر بھی ہے اک مہر سکوت
دل کی دھڑکن کے سوا اب کوئی آواز نہیں

اور ہی ہوتی ہے اک ساز شکستہ کی صدا
سوز غم جس میں نہ ہو دل کی وہ آواز نہیں

محو پرواز ہے اس اوج پہ بھی میرا خیال
جس بلندی پہ فرشتوں کی تگ و تاز نہیں

خار بن جانا ہے ہر پھول مرے حصے کا
باغباں یہ مری قسمت کا تو اعجاز نہیں

جب سے بدلا ہے ترا طرز ستم اے ظالم
دل بسمل کے تڑپنے کا وہ انداز نہیں

کروٹیں لیتے ہیں نغمات محبت اس میں
دل کی آواز سے بہتر کوئی آواز نہیں

پھر گئی ملنے سے پہلے وہ نظر اے کشفیؔ
یہ وہ انجام ہے جس کا کوئی آغاز نہیں

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم