MOJ E SUKHAN

یہ صدمہ اس کو پاگل کر گیا تھا

غزل

یہ صدمہ اس کو پاگل کر گیا تھا
وہ اپنے آئنے سے ڈر گیا تھا

کوئی بھی سر نہیں تھا اس کے قابل
عبث اس شہر میں پتھر گیا تھا

جہالت کے حوالے پڑھتے پڑھتے
کتابوں سے مرا جی بھر گیا تھا

پلاتا کون اس پیاسے کو پانی
کوئی مسجد کوئی مندر گیا تھا

وہ کس مٹی کا تھا نفرت کے گھر میں
وہ اوڑھے پیار کی چادر گیا تھا

مرا احساس تو تیرے کرم سے
مرے مرنے سے پہلے مر گیا تھا

نہ نکلا پھر وہ ساری عمر گھر سے
ذرا سی دیر کو باہر گیا تھا

تو پھر لوٹا ہے کس نے قافلے کو
ادھر تو صرف اک رہبر گیا تھا

وہاں پھر پیر کب رکھا کسی نے
جہاں رستے میں میرا سر گیا تھا

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم