MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیوں جیب میں ملا مری تقدیر لیے ہے

غزل

کیوں جیب میں ملا مری تقدیر لیے ہے
کیوں راہ کا ہر موڑ کوئی پیر لیے ہے

کرتا ہے شب و روز جو سرکار کی تعریف
یہ شخص بھی شاید کوئی جاگیر لیے ہے

سر ایک بھی میں نے یہاں اونچا نہیں دیکھا
پاگل ہے جو اب ہاتھ میں شمشیر لیے ہے

ہر پیڑ سے آتی ہے مرے دوست کی خوشبو
ہر پھول مرے شوخ کی تصویر لیے ہے

اک اجنبی ملتا ہے بڑے پیار سے اخترؔ
کیا وہ بھی کوئی حسرت دلگیر لیے ہے

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم