MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حریم دل پہ ڈالی تھی نظر اک سرسری ہم نے

غزل

حریم دل پہ ڈالی تھی نظر اک سرسری ہم نے
جواب برق ایمن تھی جو دیکھی روشنی ہم نے

ترے غم کی بدولت یوں گزاری زندگی ہم نے
اڑائی زندگی بھر ہر مصیبت کی ہنسی ہم نے

کبھی مہر و مہ و انجم کو بھی ظلمت نشاں پایا
کبھی ذروں میں بھی دیکھی تجلی طور کی ہم نے

مٹا کر امتیاز رنگ و نسل و دیں زمانے سے
کیا ہے کس قدر اونچا مقام آدمی ہم نے

یہاں موجود تھے سرو و سمن بھی ماہ و انجم بھی
کمی محسوس کی پھر بھی برابر آپ کی ہم نے

اگر رونے پہ بات آئی تو ہنس کر پی لئے آنسو
بڑھائی اس طرح اکثر زمانے کی خوشی ہم نے

نماز و بندگی کے گو نہیں پابند ہم لیکن
خلوص دل سے کی ہے جب بھی کی ہے بندگی ہم نے

نشیمن کو لگا دی آگ خود اپنے ہی ہاتھوں سے
مٹائی ہے چمن کی یوں بھی اکثر تیرگی ہم نے

کسی شے کی نہیں اس میں کمی یوں تو مگر یا رب
تری دنیا میں پائی ایک انساں کی کمی ہم نے

لٹایا زندگی سا گوہر نایاب بھی ہنس کر
تری خاطر نہ کی پروا صلیب و دار کی ہم نے

فروزاں کر کے شمع دل زمانے کو ضیا بخشی
مٹائی اس طرح صابرؔ جہاں سے تیرگی ہم نے

صابر ابوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم