MOJ E SUKHAN

درون حلقۂ زنجیر ہوں میں

غزل

درون حلقۂ زنجیر ہوں میں
شکستہ خواب کی تعبیر ہوں میں

مجھے حیرت سے یوں وہ تک رہا ہے
کہ جیسے میں نہیں تصویر ہوں میں

مری باتیں تو زہریلی بہت ہیں
مگر تریاک کی تاثیر ہوں میں

میں زندہ ہوں حصار بے حسی میں
محبت کی نئی تفسیر ہوں میں

اک آئنہ بھی ہوں اور عکس بھی ہوں
کہ شہر سنگ کا رہ گیر ہوں میں

نماز شب کا سجدہ ہوں تصورؔ
اذان صبح کی تکبیر ہوں میں

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم