MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا

غزل

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا
مت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا

تاریکئ محفل کا شکوہ تم کرتے ہو اے دیوانو کیوں
خود شمع بجھا دی ہے تم نے خود بخت تمہارا پھوٹ گیا

ساقی کی نظر اٹھتی ہی نہیں کیوں بادہ و ساغر کی جانب
سرمایۂ مے خانہ آ کر کیا کوئی لٹیرا لوٹ گیا

محرومیٔ قسمت کا عالم کیا پوچھ رہے ہو تم مجھ سے
منزل تو ابھی ہے دور بہت اور اک اک ساتھی چھوٹ گیا

اٹھتا ہے دانشؔ دل سے دھواں آنکھوں سے ٹپکتے ہیں آنسو
کیا آتش غم دینے لگی لو کیا دل کا پھپھولا پھوٹ گیا

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم