MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا

غزل

میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا
راتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویا

حسرت میں دیا جی کو محنت کی نہ ہوئی راحت
میں حال ترا سن کر فرہاد بہت رویا

گلشن سے وہ جوں لایا بلبل نے دیا جی کو
قسمت کے اوپر اپنی صیاد بہت رویا

نشتر تو لگاتا تھا پر خوں نہ نکلتا تھا
کر فصد مری آخر فصاد بہت رویا

کر قتل مجھے ان نے عالم میں بہت ڈھونڈا
جب مجھ سا نہ کوئی پایا جلاد بہت رویا

جب یار مرا بگڑا خط آئے سے اے تاباںؔ
تب حسن کو میں اس کے کر یاد بہت رویا

تاباں عبد الحی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم