MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو

غزل

اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو
کہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کو

غم دوراں غم جاناں غم جاں ایک ہوئے
ڈر رہا ہوں یہ کہیں مار نہ ڈالیں مجھ کو

منفرد میری طبیعت ہے یہ حالات کہیں
روش عام کے سانچے میں نہ ڈھالیں مجھ کو

میں تو اس پر بھی ہوں راضی کہ ترے شہر کے لوگ
میرے بنتے نہیں اپنا ہی بنا لیں مجھ کو

آپ مجھ سے کسی تعبیر کی پھر بات کریں
پہلے اس خواب تمنا سے جگا لیں مجھ کو

نہیں معلوم کہ کل تک میں رہوں یا نہ رہوں
مہرباں آج ہی جی بھر کے ستا لیں مجھ کو

گردشوں کے لئے اب تک نہ یہ ممکن نہ ہوا
کسی صورت مرے محور سے ہٹا لیں مجھ کو

ان بلندی کے مکینوں کو میسر ہی نہیں
لیثؔ وہ ہاتھ جو پستی سے اٹھا لیں مجھ کو

لیث قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم