MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنی زد پر تھے کھڑے ہم کو تو بچنا کیا تھا

غزل

اپنی زد پر تھے کھڑے ہم کو تو بچنا کیا تھا
جو ہوا ٹھیک ہوا اور تو ہونا کیا تھا

مرتے مرتے ہی مرے درد کی لذت کے حریص
بے مداوا جو نہ مرتے تو مداوا کیا تھا

اف وہ اطراف میں پھیلی ہوئی اشیا کا ہجوم
ہائے اس شور میں اک دل کا دھڑکنا کیا تھا

بے دلی ہائے نظارہ کہ مجھے یاد نہیں
سرسری دیکھا تھا کیا اور نہ دیکھا کیا تھا

رات اس بزم میں تصویر کے مانند تھے ہم
ہم سے پوچھے تو کوئی شمع کا جلنا کیا تھا

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم