MOJ E SUKHAN

تجھ سے کہنا ہے دل کا حال عبث

غزل

تجھ سے کہنا ہے دل کا حال عبث
دل میں رکھنا ، ترا خیال عبث
اس دل کی زباں وہ کب سمجھا
ساتھ گزرے وہ ماہ و سال عبث
مات لکھی بساط عشق پہ تھی
ہار جانے کا ہے —- ملال عبث
عشق کی پر فریب — وادی میں
جان و دل سے ہوئے نڈھال عبث
ہنس کے ملنا تو اس کی فطرت ہے
آپ یونہی ہوئے — نہال عبث
تیر ترکش میں اس کے بہتیرے
زخم دل کا ہے —– اندمال عبث
صوفیہ ، عشق کا گر سلیقہ نہیں
یہ ترا حسن —– یہ جمال عبث
صوفیہ حامد خان
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم