MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حالت دل وہی رہی مقصد دل کو پا کے بھی

غزل

حالت دل وہی رہی مقصد دل کو پا کے بھی
ہم تو سکوں نہ پا سکے ان کے قریب جا کے بھی

اذن نظارہ تو دیا جرأت دید چھین لی
وہ کبھی سامنے نہ آئے رخ سے حجاب اٹھا کے بھی

دل ہے نہ ذوق آرزو کوئی طلب نہ جستجو
اب وہ کریں گے کیا مجھے صاحب دل بنا کے بھی

پاس رضائے دوست کو اہل وفا سے پوچھئے
کچھ نہ زباں سے کہہ سکے ان کا اشارہ پا کے بھی

کھل گیا راز حال دل جب وہ حریم ناز میں
ہم سے نظر چرائیے سب سے نظر ملا کے بھی

یوں بھی اک امتحاں سہی جذب درون عشق کا
کچھ دنوں دیکھ لیجئے دل سے ہمیں بھلا کے بھی

کم ہوئی کیا فسردگی کیفؔ الم نصیب کی
آپ نے دیکھ تو لیا بارہا مسکرا کے بھی

کیف مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم