MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا

غزل

مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا
میں خود بھی اپنے غم کا شناسا نہیں ملا

اپنی طلب کے اپنی غرض کے ملے ہیں لوگ
میری طلب کو دیکھنے والا نہیں ملا

پھرتا رہا ہوں کوئے وفا میں تمام عمر
لیکن کہیں بھی کوئی شناسا نہیں ملا

میرے عیوب پر رہی ہر شخص کی نگاہ
کوئی ہنر کو دیکھنے والا نہیں ملا

خنجر بکف تو لوگ ملے ہر جگہ مگر
مرہم بدست کوئی مسیحا نہیں ملا

یہ بھی ہوا کہ میں نے جو سوچا نہیں ہوا
یہ بھی ہوا کہ دل نے جو چاہا نہیں ملا

ملنے گئے تھے رات کو شوکتؔ سے ہم مگر
تھا وہ ہجوم فکر میں تنہا نہیں ملا

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم