غزل
دولت دید پا کر غنی ہو گئی
لگ گئی آنکھ شب دیدنی ہو گئی
رات اندھیری تھی تارے تو روتے رہے
چاند ہنسنے لگا چاندنی ہو گئی
سوئے تھے کس کے نقش قدم راہ میں
میری تخئیل سے روشنی ہو گئی
کس کے نغموں کی لے کس کی آنکھوں کی مے
جاں فزا یوں دم جاں کنی ہو گئی
عمر اپنی تو سنتے ہی سنتے کٹی
زندگی کی سدا راگنی ہو گئی
سعید الظفر چغتائی