MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دولت دید پا کر غنی ہو گئی

غزل

دولت دید پا کر غنی ہو گئی
لگ گئی آنکھ شب دیدنی ہو گئی

رات اندھیری تھی تارے تو روتے رہے
چاند ہنسنے لگا چاندنی ہو گئی

سوئے تھے کس کے نقش قدم راہ میں
میری تخئیل سے روشنی ہو گئی

کس کے نغموں کی لے کس کی آنکھوں کی مے
جاں فزا یوں دم جاں کنی ہو گئی

عمر اپنی تو سنتے ہی سنتے کٹی
زندگی کی سدا راگنی ہو گئی

سعید الظفر چغتائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم