MOJ E SUKHAN

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے

جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے

حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے

اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب در و بام سے ندامت ہے

اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے

راستہ کٹ ہی جائے گا قابلؔ
شوق منزل اگر سلامت ہے

قابل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم