MOJ E SUKHAN
No Record Found
wo hosh ruba dard ki paikar ratain Rubayee Naseem shaikh
وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا
جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا
ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہے
ہائیکو لیاقت علی عاصم
اپنی آنکھوں کا آئینہ بھیجا
نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں
جذبۂ عشق و وفا میں ہوکے تو سر شار آ
سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے
سارے پتھر اور آئینے ایک سے لگتے ہیں
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے