MOJ E SUKHAN

بس وہ مجھ پر ہی مہربان رہا

بس وہ مجھ پر ہی مہربان رہا
عمر بھر یہ مجھے گمان رہا


کوئی دیوار درمیاں میں نہ تھی
فاصلہ پھر بھی درمیان رہا


ہم قدم دوست جب ہوئے میرے
ہر قدم ایک امتحان رہا


گرد آلود تھی فضأ دل کی
خاک اڑاتا ہؤا مکان رہا


کچھ ستارے تو آسماں پر تھے
کچھ ستاروں پہ آسمان رہا


مٹ گیا اک ہوا کے جھونکے سے
گویا میں ریت پر نشان رہا


کیا سے کیا ہو گئے ندیم مرے
میں بس احمد سعید خان رہا

احمد سعید خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم